yun saja chand ki jhalka tere andaz ka rang

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ

یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ

سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال

سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ

بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب

شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ

چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے

دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ

اک سخن اور کہ پھر رنگ تکلم تیرا

حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ

Similar Posts